سہیل طاہر
تعارف
![]() |
| میری ایک خیالی تصویر |
میرا بنیادی تعلق منطق اور فلسفۂ ریاضی سے ہے۔ میں ریاضی کو محض حساب یا عملی مہارت نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک ایسی تجریدی زبان مانتا ہوں جو عقلِ انسانی کو ترتیب، امکان اور وجود کے بنیادی سوالات سے جوڑتی ہے۔ اسی تناظر میں میں اردو زبان میں ریاضی پر ایک منظم اور اصولی کام میں مصروف ہوں، جس کا مقصد ریاضی کو سادہ بنانا نہیں بلکہ اسے درست، صاف اور فکری طور پر قائم کرنا ہے۔
منطق میرے نزدیک صرف علامتی فارمولوں یا رسمی قضایا کا نام نہیں، بلکہ فکر کی تہذیب اور استدلال کی تطہیر کا ذریعہ ہے۔ میری تحریروں میں منطقی علامات، رسمی اظہار اور فلسفیانہ توضیح ساتھ ساتھ چلتے ہیں، تاکہ خیال کو نہ صرف بیان کیا جائے بلکہ ثابت بھی کیا جا سکے۔
میری علمی دلچسپیوں کا ایک اہم میدان قدیم متون کا مطالعہ ہے خصوصًا یونانی، عبرانی، سمسکرت، سریانی اور سامری عبرانی مصادر۔ میں مذہبی متون کو محض عقیدے کی عینک سے نہیں بلکہ لسانی، تاریخی اور مفہومی اسناد کے طور پر پڑھنے کا قائل ہوں۔ اسی وجہ سے میں تورات، قرآن پاک اور ابتدائی عیسائی متون کے تقابلی مطالعے میں اصل زبان، لفظی مادّہ اور معنوی ارتقا کو بنیادی حیثیت دیتا ہوں۔
اسلامی علوم میں میری توجہ بالخصوص رسمِ عثمانی، قراءتِ حفص، اعراب، اور صوتی و عددی تناسب پر مرکوز ہے۔ میں قرآن مجید کے متن کو نہایت باریک اصولی سطح پر دیکھتا ہوں اور اس کی کتابتی و صوتی ساخت میں موجود نظم کو ایک منطقی اور ریاضیاتی ہم آہنگی کے طور پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
تعلیم کے باب میں میں رائج نظام کو تنقیدی نظر سے دیکھتا ہوں، کیونکہ یہ نظام فہم اور شوق پیدا کرنے کے بجائے زیادہ تر مقابلہ بازی اور سطحی کامیابی کو فروغ دیتا ہے(اگرچہ اس کے اپنے محدود قسم کے فوائد ہوتے ہیں)۔ اسی لیے میں آزاد مطالعہ، آن لائن علمی مواد، اور غیر رسمی تدریسی مکالمے کو زیادہ مؤثر اور دیرپا سمجھتا ہوں۔
میری تحریر کا اسلوب سنجیدہ، مربوط اور استدلالی ہے۔ میں اختلافِ رائے کو علمی قدر سمجھتا ہوں اور ہر مسئلے کو اس کی تعریف، اساس اور منطقی بنیاد تک لے جانا ضروری سمجھتا ہوں۔ مختصراً، میں خود کو ایک ایسے طالبِ علم کے طور پر دیکھتا ہوں جو سوال اٹھانے، پرکھنے اور سمجھنے کے عمل کو کبھی مکمل نہیں سمجھتا۔
منطقِ استخراجیہ پر میرا کام
استنتاجِ بدیہی یا استنتاج بہ اختلافِ قضایا
قانونِ ارسطو اور قواعدِ قیاس کا باہمی تعلق
صفحات
مُکالماتِ افلاطون پر میرا کام
١. مُکَالِمَۂ اَوَّل: بیانِ صفائی
٢. مُکَالِمَۂ اَوَّل: بیانِ صفائی
٣. مُکَالِمَۂ اَوَّل: بیانِ صفائی
صفحات
"منطقی ریاضی پر میرا کام بطور مترجم "خیال کی اُلجھن (تاریخ نظریۂ طاقِم)
جرمن ریاضیات کا ادارہ جاتی اور علمی پس منظر
روایتی اور جدید بُنیادی نقطۂ نظر

Comments
Post a Comment